منگلورو:29؍مارچ (ایس اؤ نیوز)منگلورو یونیورسٹی میں رجسٹرار کے عہدے پر بٹھانے کا لالچ دے کر منگلورو یونیورسٹی کے ایک پروفیسر سے لاکھوں روپئے لوٹنے کے الزام میں مینگلور پولس نے رام سینا لیڈر پرساد عطاور کو گرفتار کرلیاہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق رام سینا کے بانی اور ریاستی صدر پرساد عطاور نےمنگلورو یونیورسٹی کے پروفیسر وویک آچاریہ کو منگلورو یونیورسٹی میں رجسٹرار کا عہدہ دلوانے کا وعدہ کرکے مبینہ طور پر ان سے 17.5لاکھ روپئے اینٹھ لئے، اس معاملے کو لےکر وویک آچاریہ نے کنکناڑی شہری پولس تھانہ میں پرساد عطاور کے خلاف شکایت درج کرائی جس کے بعد پولس نے جانچ کرتے ہوئے ملزم پرساد عطاور کو گرفتار کرلیا۔
بتایا گیا ہے کہ منگلورو یونیورسٹی کے کیمسٹر ی شعبہ میں پروفیسر کی خدمات انجام دینے والے وویک آچاریہ یونیورسٹی کے رجسٹرار ہونے کی ضروری اہلیت رکھتے ہیں اور اس کے لئے انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال بھی کیاتھا۔ اسی دوران پرساد عطاورنے مبینہ طور پر وزیر اعلیٰ سے گہرے روابط ہونے کی بات کہتے ہوئے 15 لاکھ روپئے اور آنے جانے کے لئے 2.5لاکھ روپئے ان سے لئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ رقم لے کر ایک برس ہوگیا لیکن ابھی تک رجسٹرار کا عہدہ نہ ملنے پر وویک آچاریہ نے پولس تھانےمیں شکایت درج کرائی ۔
سنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والا پرساد عطاور شری رام سینا میں بہت سرگرم تھا۔ بعد میں شری رام سینا سے الگ ہوکر اس نے اپنی ایک الگ تنظیم رام سینا کےنام سے بنائی اور خود اس کا بانی اور ریاستی صدر ہونے کا دعویٰ کیا۔ بتایا جارہا ہے کہ اس نے منگلورو اور بنگلورو میں بی جےپی کے کئی لیڈران سے تعلقات بنائے رکھے ہیں۔
اس سے قبل پرسادعطاور کو کنکناڑی تھانے میں راؤڑی شیٹر کے طورپر بُک کیاگیا تھا۔ بندر، کدری اور کنکناڑی تھانوں میں اس کے خلاف کئی کیس درج ہیں۔ اب رجسٹرار کے عہدے کا لالچ دے کر رقم اینٹھنے کے الزام میں عطاور گرفتار ہواہے۔ اسی طرح پتہ چلا ہے کہ اس نے کئی ایک لوگوں سے رقم لے کر دھوکہ دیا ہے۔ اس تعلق سے پولس کمشنر ششی کمار نے بتایا کہ اگر دیگر معاملات میں بھی اس کے خلاف شکایت درج ہوتی ہیں تو اس سلسلے میں بھی جانچ کی جائے گی۔